شعر 1شعرِ غزل
وہ جو بزم بزمِ خار تھی آج وہ بزم بزمِ یار ہے
کل جو تیرا بیمار تھا آج تو اس کا بیمار ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
وہ جو بزم بزمِ خار تھی آج وہ بزم بزمِ یار ہے
کل جو تیرا بیمار تھا آج تو اس کا بیمار ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ