ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
مجموعۂ کلام
محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا) کے تمام اصیل شعری مسودات، غزلیات، منظومات اور نوادراتِ سخن کا باضابطہ ڈیجیٹل کتب خانہ۔ کلاسیکی وزن، جدید حسیت اور دشتِ امکان کی بازگشت۔
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ
وہ جو بزم بزمِ خار تھی آج وہ بزم بزمِ یار ہے
ستم گروں کے ستموں سے نہ گھبرایا کرو
رہے منتظر ہم شام بھر مگر وقتِ وصال نہ آ سکا،
محبوب ڈال کر اپنی عادتیں لگا جاتے ہیں پھر روگ،
تھے کبھی ان کے اور ہمارے مشترک احساسات،
ہوکر خاموش ہم نے مختصر کر دیے اپنے الفاظ،
میرا ہر وقت کا رہنا میسر مجھے کر گیا بے وقعت،
ویسے لگتا تو نہیں آپ بھی ہیں
یہ قلم تھا معزز زمانے میں
مجھے چھوڑنا اگر تیرے بس میں ہے
تھی یہ امید نہ تجھ سے کہ تو اتنا بے وفا ہوگا
ے / باحجاب ہے)
قابض ہوکر قلب و روح پر اس دار میں کچھ لوگ
ستم گر کتنوں کی فہرست میں لقب ہوگا میرے محبوب کا۔
ہم محو تھے کبھی تیرے ہی تخیل میں صنم،
جب وہ لفظوں سے لفظوں کو جدا کرتے ہیں
ملنے کو وہ ترسیں گے سب جو اب ملنا نہیں چاہتے
بہت قیمت ہے اس دور میں چاہے عشق ہو یا محبت
کئی اسبوع گزر گئے کسی کے ہجر میں
کہیں گر ہوا متلاشی میں تیرا تو گم ہو جانا اجازت ہے
پارہِ قلب ہو گیا اگر مر کے ہم کو تیرا وصل نصیب
محض تم ہو میرے قلب میں اے دوست،
یہ حقیقت ہے کوئی گلا نہیں، تیرے جیسا کوئی ملا نہیں
جس خوبصورت چہرے کی قسمت میں ہم ہیں
نہ ہو گر یہ یقیں دل کو پھر محبوب سے ملنے کا
رضا منحصر ہے آپ پر
سلام تجھے اے بابائے قوم عبد القدیر خان
ہے وہ کون جو اس ملک کی تقدیر بدلے
تیری عمر دراز ہو،
ذرا بھر بھی ان لوگوں نہ دوستوں کی پرواہ ہے
میرے عطار میرے عطار میرے عطار میرے عطار
میرے عطار عطا کر دو مجھے عشقِ رسول اللہ
عطار کا میں سگ ہوں میری منزل بقیع ہے
(دارِ بے وفا)
کرکے چناؤ الفاظ کا علی مختصر کلام کیا کر
(دوست کی طلب)
(قلم توڑ دیا)
(امام بننا چاہتا ہوں)
چاہتے ہو مخلص یار؟
ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے
ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک
حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں
وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا
اگر محبوب جان مانگے تو جان دے دو
محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو
نہیں آؤ گے تم لوٹ کے ہمیں معلوم تھا میرے دوست
آپ کے الفاظ سے نہ آئی مجھے اخلاص کی بو ہے
جس صفحے کا سینہ ہو ہمارے نام سے بھی مزین
تو نہیں ملے گا ہم کو یہ تو معلوم ہے پارہ قلب
تیری نظروں سے گرا ہوں بڑی چوٹ لگی ہے
تو اس حجاب کے پیچھے کیا ہوگا
آ رہی ہے میسر آج اک معجب سی خوشی
ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں
تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے
تیرا کردار اتنا حسین ہے
20(شادی خانہ آبادی)
مجھے یاد ہے جب وہ آیا تھا
گزشتہ سال کھڑے گلاب پر
"یہی لہجے مجھے محفلوں سے دور رکھتے ہیں
کسی کا جملہ ہے بڑی منزلوں کے مسافر کبھی گھبرایا نہیں کرتے
کل اک شخص کا بے چینی سے علی بڑا رہا منتظر
یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی
بے زار ہوئے دوستوں کی بے رغبتی سے ہم
ہوا معلوم منزل پر پہنچ کر ہمیں
یہ مفلسی ہے دوست میری دیا اسی نے مجھے دھوکا
حب کی آنکھ سے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں
اس جہاں میں محض ہمیں نفرت ملی
ہم کو بھی کوئی چاہتا ہماری طرح دل سے
میرے الفاظ میرے جذبات کا مجموعہ ہوتے ہیں
کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں
وفاداروں سے ہوتی ہیں اکثر وفائیں
(کوئی پوچھتا ہے)
وفائیں جو تو اس سے کرتا ہے
(عشقِ رسول ﷺ اور استقامت)
کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا
اسے چاہت ہی نہیں ملنے کی پھر کیوں تڑپتا ہے
بہت تڑپے ہیں اس کی یادوں میں کچھ دن بسیرا کرے
ان کی پہلی پہلی مسکراہٹیں
کبھی ان کے آشیانے سے ٹکرا کر یوں صدا آتی ہے
کس سطح پر ہے حسنِ ظن تیرا اے ستم گر
پارہ قلب تجھ سے نہیں عشق کہ محض تو حسین ہے
شب و روز ہمیں تڑپاتا ہے کیا تو خود بشر نہیں
ہمارا تو عدو بھی علی ہمارا صنم ہے،
کیا ہم سے واقف ہو اے زمانے والو
بڑی کاٹی ہیں ہجر میں شب ہم نے
ہم نشئی ہوئے مے خور مے خانے میں
تو ہے تو سہی اپنے ظاہر و باطن سے پیکرِ حسن و جمیل
اک محبوب کی خاطر ہم غزل لکھ رہے ہیں
دیارِ مطلب پرستی سے علم ہوا ہر مسکراہٹ علی مسکان نہیں ہوتی
قلب سے کب صدا نکلی کہ تو سمجھتا خود کو کیا ہے
قلب میں جو بات ہے اب اسے نہ راز رہنے دو
ہماری ذات، صفات، اور عادات پوچھتے ہو
تجھے یاد ہے کہ ہم جب آئے تھے
تیری غرض جو میری غرض ہے
مل کر پچھتاتا ہوں میں آج بھی اس غم ساز سے
ہو گیا آغاز اس کے ستموں کا جس پر تھا بہت بھرم
دھیرے دھیرے جب تیرے دیے زخم بھرتے ہیں
پارہِ قلب یہ تو سمجھو ہم تیرے بیمار ہیں
کتنے بے باک ہیں آپ یہ جواز کوئی جواز نہیں
ہو جائیں خدارا ہم دنیا کی ہر الفت سے بے نیاز
اے ستم گر تو ستم کرکے سب لمحے بھول جاتا ہے
تمہاری راہوں کا تکلف مجھے تیرا ہونے نہیں دیتا
ہم نے تو کی ہر اس سے جو ملا ہمیں گلزار میں
کچھ خود کو سمجھتے ہیں ہوشیار بہت
تمہارا اپنی منزل کا سفر یوں ہی بدلتے رہنا
لوگو پوچھتے ہیں ہم سے اکثر محبتوں کے قصے
اب کہتی ہے اک جان پھر دنیا سے کنارا کرلو
ہم وہ حسرت ہیں جو کسی کی پوری نہیں ہوتی
وہ جب مسکراتے ہیں تو خوشیاں چھن جاتی ہیں زمانے کی
وہ کون خوش نصیب ہوں گے جس کی قسمت میں ہم ہوں گے
مجھے سمجھا ہے زمانے نے زمانے کی طرح
محبت ہو جائے تو لطف اٹھا لو محبوب کے مظہر میں
سب مخلوق سے بڑھ کر ہمیں انسان بنایا
