(دارِ بے وفا)
منتخب منظومات
نظمِ معریٰ، پابند اور آزاد ہئیتوں میں تخلیق شدہ منظومات، جن میں فرد، وقت، سماج اور سرگودھا کے ثقافتی منظرنامے کے گہرے نقوش شامل ہیں۔
کرکے چناؤ الفاظ کا علی مختصر کلام کیا کر
(دوست کی طلب)
(قلم توڑ دیا)
(امام بننا چاہتا ہوں)
چاہتے ہو مخلص یار؟
ہے تقاضا روٹھنے والوں کا کہ اٹھائے جائیں نکھرے
ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک
حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں
وہ لوگ بھی ہیں یہاں دعویٰ محبت میں مبتلا
اگر محبوب جان مانگے تو جان دے دو
محبت و عشق میں نہیں فرصت اب قلبِ مجرم کو
نہیں آؤ گے تم لوٹ کے ہمیں معلوم تھا میرے دوست
آپ کے الفاظ سے نہ آئی مجھے اخلاص کی بو ہے
جس صفحے کا سینہ ہو ہمارے نام سے بھی مزین
تو نہیں ملے گا ہم کو یہ تو معلوم ہے پارہ قلب
تیری نظروں سے گرا ہوں بڑی چوٹ لگی ہے
تو اس حجاب کے پیچھے کیا ہوگا
آ رہی ہے میسر آج اک معجب سی خوشی
ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں
تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے
تیرا کردار اتنا حسین ہے
20(شادی خانہ آبادی)
مجھے یاد ہے جب وہ آیا تھا
گزشتہ سال کھڑے گلاب پر
"یہی لہجے مجھے محفلوں سے دور رکھتے ہیں
کسی کا جملہ ہے بڑی منزلوں کے مسافر کبھی گھبرایا نہیں کرتے
کل اک شخص کا بے چینی سے علی بڑا رہا منتظر
یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی
بے زار ہوئے دوستوں کی بے رغبتی سے ہم
ہوا معلوم منزل پر پہنچ کر ہمیں
یہ مفلسی ہے دوست میری دیا اسی نے مجھے دھوکا
حب کی آنکھ سے انہیں کبھی دیکھا ہی نہیں
اس جہاں میں محض ہمیں نفرت ملی
ہم کو بھی کوئی چاہتا ہماری طرح دل سے
میرے الفاظ میرے جذبات کا مجموعہ ہوتے ہیں
کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں
وفاداروں سے ہوتی ہیں اکثر وفائیں
(کوئی پوچھتا ہے)
وفائیں جو تو اس سے کرتا ہے
(عشقِ رسول ﷺ اور استقامت)
کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا
