مطلعشعرِ غزل
ہم نے تو کی ہر اس سے جو ملا ہمیں گلزار میں
وفا دے کر نہ ملی پھر بھی ہم کو اس دار میں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہم نے تو کی ہر اس سے جو ملا ہمیں گلزار میں
وفا دے کر نہ ملی پھر بھی ہم کو اس دار میں
رہا نہ یقین میرا اب اعتدالِ محبت پر علی
جسے چاہا وہی مغرور ہوا اپنے حسن کی آڑ میں
برباد ہوکر تنہائیوں سے جن کی خاطر ہم شاعر بنے
پتہ چلا ہے کچھ دنوں سے کہ وہ آرہے ہیں بازار میں
کبھی منتظر تھے جن کی طلب تھی ہمیں بے پناہ
ان کی سزا کی ہے یہ انتہا وہ رہیں گے اب انتظار میں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ