شب و روز ہمیں تڑپاتا ہے کیا تو خود بشر نہیں
اس قدر بے حسی کیا تجھے اعتقادِ حشر نہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
شب و روز ہمیں تڑپاتا ہے کیا تو خود بشر نہیں
اس قدر بے حسی کیا تجھے اعتقادِ حشر نہیں
ہم مستغرق ہیں کسی کے تخیل میں ان دنوں
کیا خبر لیں ہماری جنہیں خود کی خبر نہیں
عرصہ دراز بعد جب کہیں خواہش کریں کلام کی
کہتے ہیں بے رخی میں تمہیں بالکل صبر نہیں
ہم نے اک زندگی کا حصہ صنم تیرے نام کردیا
کہتے ہیں محض دیکھ لو کوئی اور اجر نہیں
محب ہو تو تڑپو میں بھی تڑپتا ہوں کسی کے لیے
میں سہتا ہوں جو اس کی نسبت یہ کوئی جبر نہیں
ہم اگر کر ہی لیں ٹوٹ کر علی ان سے کوئی گلہ
ہوجاؤ ساکن! کہتے ہیں میرے سامنے زیر زبر نہیں
اگر چاہتے ہو رکھنا رکھو تعلق انہیں اذیتوں کے بیچ
عاشق کو ہم تڑپائیں گے سنیں گے کوئی اگر مگر نہیں
نہیں ملتے ڈھونڈنے سے بھی مخلص محب اس دار سے
کہتے ہیں تجھے کھونے کا ہمیں کوئی خوف و حضر نہیں
کر دیتے ہیں عین ساعت پر وہ ہم کو آنے سے منع
وصل ہو جس سے ممکن ہم نے کیا کوئی ایسا سفر نہیں
سیکھے تو ہم نے بھی ہیں علی تڑپانے کے سب ہنر
مگر تصور میں بھی دے سکتے ہم انہیں کوئی ضرر نہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ