مطلعشعرِ غزل
کس سطح پر ہے حسنِ ظن تیرا اے ستم گر
میں کورس میں نیٹ آن تھا میرا اے ستم گر

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کس سطح پر ہے حسنِ ظن تیرا اے ستم گر
میں کورس میں نیٹ آن تھا میرا اے ستم گر
ہم یہاں ہو کے بھی ہیں کہاں یہاں اے دوست
ہر وقت ہے تیرے تخیل میں بسیرا اے ستم گر
چھوڑ کر ہمیں تاریکوں میں کہیں اور جا بسا
آج کل ہے میری زندگی میں اندھیرا اے ستم گر
تو ظلم کرے ستم کرے چاہے پیغامات کو ختم
میں تیرا تھا تیرا ہوں رہوں گا تیرا اے ستم گر

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ