CANON-NAZM-01 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم :1

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-01
شعر 1شعرِ غزل

​کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا

ادارہِ قانون جسے کہتے ہیں منتظر ہے الجناح

شعر 2شعرِ غزل

یہاں قلوب بھی کشادہ ہیں کمروں کی طرح

ہر شب قلب کو چھوتا ہے جیسے چھوتی ہے صبا

شعر 3شعرِ غزل

​جو محروم ہے زمانے میں احساس کی بو سے

اس گلشن کے ہر کوچے میں پنہاں ہے وفا

شعر 4شعرِ غزل

ہم ادھر ہی ہیں آ جائے ہر اک متلاشی وفا کا

جو خفا ہے زمانے سے جس سے زمانہ ہے خفا

شعر 5شعرِ غزل

​صبا سے بھی منفرد ہے ہمارے پاس گلِ نسیم

لاکھوں طلباء کے بھی معلم یہاں ہیں سر فہیم

شعر 6شعرِ غزل

طرزِ تدریس قابلِ ستائش اور ہے بالکل عظیم

جن کا رکھتا ہے ہر شب سب سے منفرد تفہیم

شعر 7شعرِ غزل

​طلباء کے شب و روز سے یہاں جو واقف بھی

اللہ والوں کی فہرست میں جو عاقف بھی ہیں

شعر 8شعرِ غزل

جن کی صحبت سے ہوتا ہے ہر بچہ محظوظ

بہترین اساتذہ کی فہرست میں سر عاطف بھی

شعر 9شعرِ غزل

​سن لیں باقی رہ گئے جو کچھ اہم عنوان

اعلیٰ تخیل کے مالک رکھتے ہیں جو منفرد گمان

شعر 10شعرِ غزل

جن کے اسباق سے طلبا ہو جاتے ہیں حیران

اساتذہ میں ہینڈسم ہیں محض سر رضوان

شعر 11شعرِ غزل

​جن کی طرزِ تدریس فہم رکھتی ہے پیچیدہ

ہو جاتے ہیں جن کی آمد سے سب بچے رنجیدہ

شعر 12شعرِ غزل

نظم و ضبط کے معاملے میں ہیں جو بہت سنجیدہ

معلموں کی فہرست میں ہے یہ میم فہمیدہ

شعر 13شعرِ غزل

​نہ دل کی بات جن سے کر سکے بھلا ہے کوئی مجال

یہاں جن کے ہونے سے ہے ادارے کی ترقی کا کمال

شعر 14شعرِ غزل

فرض شناسی میں جو رکھتی ہیں اک منفرد مثال

محترمہ یہاں بیٹھی ہیں ہاں وہ ہیں محترمہ میشال

شعر 15شعرِ غزل

​نامِ عدو کے لیے کافی ہے نہیں ہے ضرورتِ شور

جن کا ہر شب اور جملہ ہے ہمارے لیے قابلِ غور

شعر 16شعرِ غزل

شاہینوں کے شہر میں نہیں اس شاہین کا کوئی جوڑ

مختارِ کار ہیں اس ادارہِ قانون کے جناب فرخ سمور

شعر 17شعرِ غزل

​یہاں طلبا کی فہرست میں کوئی گلِ زید بھی ہے

احباب کی فہرست میں رہ چکا یہ عبید بھی ہے

شعر 18شعرِ غزل

سمجھتا ہم کو یہاں کوئی بے کار بھی ہے

میں یہاں سب سے پہلے جسے ملا وہ عمار ہی ہے

شعر 19شعرِ غزل

​میری کلاس کے پھولوں میں اک گلِ زیب بھی ہے

سب پھلوں میں منفرد اک سنہری سیب بھی ہے

شعر 20شعرِ غزل

اکثر بن جاتا ہے جو کتنوں کی مسکان کی وجہ

میرے احباب کی فہرست میں شاہذیب بھی ہے

شعر 21شعرِ غزل

​منفرد مسکان کا مالک اک عجیب بھی ہے

ہم ثقافت طلبا کے بہت قریب بھی ہے

شعر 22شعرِ غزل

مسکراہٹ کی بدولت سب کا حبیب بھی ہے

ہم مکتب طلباء میں طالبعلم یہ نقیب بھی ہے

شعر 23شعرِ غزل

​طلبا کے ہر معاملے میں ہے جو معاون و مددگار

انجانے سے بن جاتا ہے کبھی کبھی جو خطاکار

شعر 24شعرِ غزل

کچھ کے آئنوں میں جو مرکزِ فساد بھی ہے

گمان مرضی کا لانے میں جو آزاد بھی ہے

شعر 25شعرِ غزل

کچھ احباب کی فہرست میں جو دلشاد بھی ہے

میرے احباب کی فہرست میں شیخ حماد بھی ہے

شعر 26شعرِ غزل

​علی جنہیں سمجھتا ہے خاص ان کے لیے عام بھی ہے

تشنگی ختم نہ کر سکا اک یہاں وفا کا جام بھی ہے

شعر 27شعرِ غزل

جسے غرض نہیں کسی سے، کام سے کام ھی طے ہے

اور ہم سے بے وفائی کا، بے وفا کا الزام بھی ہے

شعر 28شعرِ غزل

استفادہ کرتا ہماری صحبت سے صبح شام بھی ہے

بہترین احباب کی فہرست میں شیخ فرزام ہی ہے

بند نمبر 1نظم

​کوئی چاہتا ہے اگر اپنے مستقبل کی بقا

ادارہِ قانون جسے کہتے ہیں منتظر ہے الجناح

یہاں قلوب بھی کشادہ ہیں کمروں کی طرح

ہر شب قلب کو چھوتا ہے جیسے چھوتی ہے صبا

بند نمبر 2نظم

​جو محروم ہے زمانے میں احساس کی بو سے

اس گلشن کے ہر کوچے میں پنہاں ہے وفا

ہم ادھر ہی ہیں آ جائے ہر اک متلاشی وفا کا

جو خفا ہے زمانے سے جس سے زمانہ ہے خفا

بند نمبر 3نظم

​صبا سے بھی منفرد ہے ہمارے پاس گلِ نسیم

لاکھوں طلباء کے بھی معلم یہاں ہیں سر فہیم

طرزِ تدریس قابلِ ستائش اور ہے بالکل عظیم

جن کا رکھتا ہے ہر شب سب سے منفرد تفہیم

بند نمبر 4نظم

​طلباء کے شب و روز سے یہاں جو واقف بھی

اللہ والوں کی فہرست میں جو عاقف بھی ہیں

جن کی صحبت سے ہوتا ہے ہر بچہ محظوظ

بہترین اساتذہ کی فہرست میں سر عاطف بھی

بند نمبر 5نظم

​سن لیں باقی رہ گئے جو کچھ اہم عنوان

اعلیٰ تخیل کے مالک رکھتے ہیں جو منفرد گمان

جن کے اسباق سے طلبا ہو جاتے ہیں حیران

اساتذہ میں ہینڈسم ہیں محض سر رضوان

بند نمبر 6نظم

​جن کی طرزِ تدریس فہم رکھتی ہے پیچیدہ

ہو جاتے ہیں جن کی آمد سے سب بچے رنجیدہ

نظم و ضبط کے معاملے میں ہیں جو بہت سنجیدہ

معلموں کی فہرست میں ہے یہ میم فہمیدہ

بند نمبر 7نظم

​نہ دل کی بات جن سے کر سکے بھلا ہے کوئی مجال

یہاں جن کے ہونے سے ہے ادارے کی ترقی کا کمال

فرض شناسی میں جو رکھتی ہیں اک منفرد مثال

محترمہ یہاں بیٹھی ہیں ہاں وہ ہیں محترمہ میشال

بند نمبر 8نظم

​نامِ عدو کے لیے کافی ہے نہیں ہے ضرورتِ شور

جن کا ہر شب اور جملہ ہے ہمارے لیے قابلِ غور

شاہینوں کے شہر میں نہیں اس شاہین کا کوئی جوڑ

مختارِ کار ہیں اس ادارہِ قانون کے جناب فرخ سمور

بند نمبر 9نظم

​یہاں طلبا کی فہرست میں کوئی گلِ زید بھی ہے

احباب کی فہرست میں رہ چکا یہ عبید بھی ہے

سمجھتا ہم کو یہاں کوئی بے کار بھی ہے

میں یہاں سب سے پہلے جسے ملا وہ عمار ہی ہے

بند نمبر 10نظم

​میری کلاس کے پھولوں میں اک گلِ زیب بھی ہے

سب پھلوں میں منفرد اک سنہری سیب بھی ہے

اکثر بن جاتا ہے جو کتنوں کی مسکان کی وجہ

میرے احباب کی فہرست میں شاہذیب بھی ہے

بند نمبر 11نظم

​منفرد مسکان کا مالک اک عجیب بھی ہے

ہم ثقافت طلبا کے بہت قریب بھی ہے

مسکراہٹ کی بدولت سب کا حبیب بھی ہے

ہم مکتب طلباء میں طالبعلم یہ نقیب بھی ہے

بند نمبر 12نظم

​طلبا کے ہر معاملے میں ہے جو معاون و مددگار

انجانے سے بن جاتا ہے کبھی کبھی جو خطاکار

کچھ کے آئنوں میں جو مرکزِ فساد بھی ہے

گمان مرضی کا لانے میں جو آزاد بھی ہے

بند نمبر 13نظم

کچھ احباب کی فہرست میں جو دلشاد بھی ہے

میرے احباب کی فہرست میں شیخ حماد بھی ہے

​علی جنہیں سمجھتا ہے خاص ان کے لیے عام بھی ہے

تشنگی ختم نہ کر سکا اک یہاں وفا کا جام بھی ہے

بند نمبر 14نظم

جسے غرض نہیں کسی سے، کام سے کام ھی طے ہے

اور ہم سے بے وفائی کا، بے وفا کا الزام بھی ہے

استفادہ کرتا ہماری صحبت سے صبح شام بھی ہے

بہترین احباب کی فہرست میں شیخ فرزام ہی ہے

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-01
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ