وفائیں جو تو اس سے کرتا ہے
ہر پل جو تو اس پہ مرتا تھا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
وفائیں جو تو اس سے کرتا ہے
ہر پل جو تو اس پہ مرتا تھا
الفت تو اس سے بہت تھی لیکن
اظہار کرنے سے پھر کیوں ڈرتا تھا
سکول جاتا تھا اس کی یادوں میں آتا
وہاں نہ کچھ کرتا تھا نہ پڑھتا تھا
بلکہ ہر بات پہ میں وہاں لڑتا تھا
جیسے کرتا تھا وہ نظر انداز مجھے
ویسے میں بھی پاؤں الٹے چلنے لگا
دن گزرنے لگے دماغ بھی چلنے لگا
اور آہستہ آہستہ میں بھی پڑھنے لگا
اک مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے
اک منزل کی طرف تھا میں بڑھنے لگا
جیسے کانٹوں بھرا راستہ ہو
اور پہاڑی کی چوٹی پر چڑھنے لگا
اک وقت آیا وہ مجھ پہ نظریں دھرنے لگا
میری کامیابیوں پر رشک کرنے لگا
جیسے میں تھا اس کے لیے پل پل مرتا
وہ بھی دن بہ دن مجھ پہ مرنے لگا
کہیں ہو نہ جاؤں کسی اور کا
اس بات سے تھا وہ بھی ڈرنے لگا
وفائیں جو تو اس سے کرتا ہے
ہر پل جو تو اس پہ مرتا تھا
الفت تو اس سے بہت تھی لیکن
اظہار کرنے سے پھر کیوں ڈرتا تھا
سکول جاتا تھا اس کی یادوں میں آتا
وہاں نہ کچھ کرتا تھا نہ پڑھتا تھا
بلکہ ہر بات پہ میں وہاں لڑتا تھا
جیسے کرتا تھا وہ نظر انداز مجھے
ویسے میں بھی پاؤں الٹے چلنے لگا
دن گزرنے لگے دماغ بھی چلنے لگا
اور آہستہ آہستہ میں بھی پڑھنے لگا
اک مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے
اک منزل کی طرف تھا میں بڑھنے لگا
جیسے کانٹوں بھرا راستہ ہو
اور پہاڑی کی چوٹی پر چڑھنے لگا
اک وقت آیا وہ مجھ پہ نظریں دھرنے لگا
میری کامیابیوں پر رشک کرنے لگا
جیسے میں تھا اس کے لیے پل پل مرتا
وہ بھی دن بہ دن مجھ پہ مرنے لگا
کہیں ہو نہ جاؤں کسی اور کا
اس بات سے تھا وہ بھی ڈرنے لگا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ