شعر 1شعرِ غزل
ہم کو بھی کوئی چاہتا ہماری طرح دل سے
کاش ہم بھی کرتے کسی اپنے کو نصیحت

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہم کو بھی کوئی چاہتا ہماری طرح دل سے
کاش ہم بھی کرتے کسی اپنے کو نصیحت
جیسے ہم کو رلایا ہے سنگدل زمانے نے
ہم بھی دیں انہیں اپنی طرح اذیت
کوئی تو ہو جو ہمارے حصے کا غم اٹھائے
ہم بھی چھوڑ جائیں کسی کے لیے وصیت
کیسے ہمسفر بناؤں کسی غیر محرم کو علی
یہ اجازت نہیں دیتی ہمیں اسلام میں شریعت
ہم کو بھی کوئی چاہتا ہماری طرح دل سے
کاش ہم بھی کرتے کسی اپنے کو نصیحت
جیسے ہم کو رلایا ہے سنگدل زمانے نے
ہم بھی دیں انہیں اپنی طرح اذیت
کوئی تو ہو جو ہمارے حصے کا غم اٹھائے
ہم بھی چھوڑ جائیں کسی کے لیے وصیت
کیسے ہمسفر بناؤں کسی غیر محرم کو علی
یہ اجازت نہیں دیتی ہمیں اسلام میں شریعت

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ