سلام تجھے اے بابائے قوم عبد القدیر خان
بدل دیا تو نے اپنے ملک کے تحفظ کا عنوان

اردو شاعری اور فکری محفوظات
سلام تجھے اے بابائے قوم عبد القدیر خان
بدل دیا تو نے اپنے ملک کے تحفظ کا عنوان
ملک کا تحفظ تو نے کر دیا ناقابلِ تسخیر
اب فخر سے چلتا ہے ہر بچہ، بوڑھا اور جوان
ہاتھ کر دیے تو نے سب کفار کے مقفل
اب جنبش کر سکتی ہے بس ان کی زبان
نسلِ اعدا کی روتی ہے پٹخ کر سر اپنا
لرزتا ہے تخلیق تیری سے اب پورا ہندوستان
نہ تجھے بھولے تھے، نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے
مقروض ہے تیرا قیامت تک یہ وطن پاکستان
خوفِ اعدا کی دھمکیوں سے فکریں تو نے کم کر دیں
ترقی پذیر کر گئے اس ملک کو نا اہل حکمران
سلام تجھے اے بابائے قوم عبد القدیر خان
بدل دیا تو نے اپنے ملک کے تحفظ کا عنوان
ملک کا تحفظ تو نے کر دیا ناقابلِ تسخیر
اب فخر سے چلتا ہے ہر بچہ، بوڑھا اور جوان
ہاتھ کر دیے تو نے سب کفار کے مقفل
اب جنبش کر سکتی ہے بس ان کی زبان
نسلِ اعدا کی روتی ہے پٹخ کر سر اپنا
لرزتا ہے تخلیق تیری سے اب پورا ہندوستان
نہ تجھے بھولے تھے، نہ بھولے ہیں، نہ بھولیں گے
مقروض ہے تیرا قیامت تک یہ وطن پاکستان
خوفِ اعدا کی دھمکیوں سے فکریں تو نے کم کر دیں
ترقی پذیر کر گئے اس ملک کو نا اہل حکمران

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ