شعر 1شعرِ غزل
ملنے کو وہ ترسیں گے سب جو اب ملنا نہیں چاہتے
وہ پھول بھی کھلیں گے جو اب کھلنا نہیں چاہتے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ملنے کو وہ ترسیں گے سب جو اب ملنا نہیں چاہتے
وہ پھول بھی کھلیں گے جو اب کھلنا نہیں چاہتے
کسی کو بھی شاید اب ہم اسی لیے نہیں بھاتے
کوئی بلائے بھی محفل میں تو اب ہم نہیں جاتے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ