شعر 1شعرِ غزل
تھی یہ امید نہ تجھ سے کہ تو اتنا بے وفا ہوگا
بلکہ یہ یقین تھا تجھ پر کم از کم تو باوفا ہوگا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تھی یہ امید نہ تجھ سے کہ تو اتنا بے وفا ہوگا
بلکہ یہ یقین تھا تجھ پر کم از کم تو باوفا ہوگا
جو کیا آج ہم نے تھا نہ سوچا کہ یہ بھی گلہ ہوگا
کیں نچھاور تجھ پر محبتیں تھا علم کیا صلہ ہوگا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ