ذرا بھر بھی ان لوگوں نہ دوستوں کی پرواہ ہے
مدینے والے کی مجھ پر علی خاص نگاہ ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ذرا بھر بھی ان لوگوں نہ دوستوں کی پرواہ ہے
مدینے والے کی مجھ پر علی خاص نگاہ ہے
ہو جائیں مجھ سے رسولِ خدا ﷺ محض راضی
کیا ہے یہ دنیا اور اس کی حقیقت ہی کیا ہے
ہمیں دیا وہ سب کچھ جو مانگا بھی نہ ہم نے
عطاؤں کے عوض بس ہم سے تقاضاءِ وفا ہے
فطرتِ انسانی پر ہے مبنی دینِ اسلام سارا
جواز جو بنتے نہیں نکالیں باقی ذرا ہم میں حیا ہے
فرائض واجبات کو جو چھوڑے عذرِ رحمتِ خدا پر
ہر اک کان کھول کر سن لے وہ مستحقِ سزا ہے
دل مانے نہ مانے حکمِ رسول و خدا کے آگے
پوشیدہ اسی میں بھلائی تیری اسی میں بقا ہے
باوجود علم ہونے کے پکڑے راہِ فرار جو بھی
اسی سے تو وہ قہار حقیقت میں خفا ہے
محض چند سانس لیے جس مالک کی رضا پر
رب کے پاس اس کے لیے علی منتظر جزا ہے
ذرا بھر بھی ان لوگوں نہ دوستوں کی پرواہ ہے
مدینے والے کی مجھ پر علی خاص نگاہ ہے
ہو جائیں مجھ سے رسولِ خدا ﷺ محض راضی
کیا ہے یہ دنیا اور اس کی حقیقت ہی کیا ہے
ہمیں دیا وہ سب کچھ جو مانگا بھی نہ ہم نے
عطاؤں کے عوض بس ہم سے تقاضاءِ وفا ہے
فطرتِ انسانی پر ہے مبنی دینِ اسلام سارا
جواز جو بنتے نہیں نکالیں باقی ذرا ہم میں حیا ہے
فرائض واجبات کو جو چھوڑے عذرِ رحمتِ خدا پر
ہر اک کان کھول کر سن لے وہ مستحقِ سزا ہے
دل مانے نہ مانے حکمِ رسول و خدا کے آگے
پوشیدہ اسی میں بھلائی تیری اسی میں بقا ہے
باوجود علم ہونے کے پکڑے راہِ فرار جو بھی
اسی سے تو وہ قہار حقیقت میں خفا ہے
محض چند سانس لیے جس مالک کی رضا پر
رب کے پاس اس کے لیے علی منتظر جزا ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ