مطلعشعرِ غزل
مجھے سمجھا ہے زمانے نے زمانے کی طرح
رستے میں چھوڑا ہے ہمیں ویرانے کی طرح

اردو شاعری اور فکری محفوظات
مجھے سمجھا ہے زمانے نے زمانے کی طرح
رستے میں چھوڑا ہے ہمیں ویرانے کی طرح
سن تو رکھا تھا کہ بہت جفا کش ہیں یہ لوگ
لیکن ہم نے سب کو آزمایا آزمانے کی طرح
یہ نہیں کہ ہم میں کمی تھی نبھانے کی ان سے
ہم نے تو سب سے نبھایا ہے نبھانے کی طرح
ہم سے بلا عذر وہ جو روٹھے بیسیوں دفعہ
ہم نے ہر بار انہیں منایا تھا منانے کی طرح
نہیں ٹوٹتے کبھی اخلاص کی گرہ سے جڑے رشتے
جدائی کے سو عذر ہیں منافق کے بہانے کی طرح

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ