مطلعشعرِ غزل
محبت ہو جائے تو لطف اٹھا لو محبوب کے مظہر میں
اظہار کرنے کے بعد ڈوب جاؤ گے وگرنہ غموں کے بحر میں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
محبت ہو جائے تو لطف اٹھا لو محبوب کے مظہر میں
اظہار کرنے کے بعد ڈوب جاؤ گے وگرنہ غموں کے بحر میں
بات تب ہی ہے وہ بھی تڑپیں تیرے لیے دل سے تیری طرح
سوئے ہجر کی شب، اٹھے تو نموں کی سحر میں
یہ تو مجنوں ہی جانے کیا راز ہے اس میں
کیا فرق ہے جامِ الفت میں یا میٹھے زہر میں
نہیں پونچھے گی وہ آنسو نرم ہاتھوں سے میرے
چاہے ہم ڈوب کے مر جائیں بہتے آنسوؤں کی نہر میں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ