مطلعشعرِ غزل
وہ جب مسکراتے ہیں تو خوشیاں چھن جاتی ہیں زمانے کی
پھول تکتے ہیں انہیں ٹھہر کر صورت بدلتی ہے ویرانے کی

اردو شاعری اور فکری محفوظات
وہ جب مسکراتے ہیں تو خوشیاں چھن جاتی ہیں زمانے کی
پھول تکتے ہیں انہیں ٹھہر کر صورت بدلتی ہے ویرانے کی
ہر موسم لگتا ہے زمانے کو بہار کی مانند
ان کے نکلنے سے گلشن میں حیثیت بدل جاتی ہے پیمانے کی
علی جب وہ پکڑتے ہیں کشکول کو مے کشی کی غرض سے
پھر نشہ اترتا ہے کثرت کا کیفیت بدل جاتی ہے مے خانے کی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ