تمہارا اپنی منزل کا سفر یوں ہی بدلتے رہنا
ہمارا شب و روز تیرے پیچھے بھٹکتے رہنا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تمہارا اپنی منزل کا سفر یوں ہی بدلتے رہنا
ہمارا شب و روز تیرے پیچھے بھٹکتے رہنا
تمہیں یاد ہوگا تمہاری دید کی خاطر
ہمارا ان بسوں کی کھڑکیوں سے لپکتے رہنا
ہمیں دیکھ کر نہ آتا تھا کبھی ترس تمہیں
تمہارا نظر اندازی سے آنکھوں کو جھپکتے رہنا
کتنا غم دید تھا ہم پر تیرا گزرا ہوا ماضی
تیرے غم میں آنکھوں سے آنسوؤں کا ٹپکتے رہنا
گرا تو بہت دفعہ تمہاری بے رخی کے عوض
گر کے اٹھنا، اٹھ کے گرنا اور اکثر ہمارا سنبھلتے رہنا
تمہیں دیکھ کر کیوں ہو جاتی تھیں تیز نبضیں
اور کیوں بے ساختہ ہمارے دل کا یوں دھڑکتے رہنا
تیری آنکھیں تھیں مے خانہ اور ساقی تھی تو خود
وہ ہمارا تیری آنکھوں کے جام کو یوں ترستے رہنا
تمہارے آنے سے جو وہ چلتی تھی تیز غم کی آندھی
گرجتے تھے دل پہ بادل اور اوپر سے تمہارا برستے رہنا
وہ جو سرخ ہونٹوں پہ آتی تھی کبھی تبسم کی لہر
دانتوں کے نیچے ہونٹ لے کر تیرا گلاب کی پتی کو مسلتے رہنا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ