CANON-GHAZAL-08 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر 8

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-08
مطلعشعرِ غزل

​تمہارا اپنی منزل کا سفر یوں ہی بدلتے رہنا

ہمارا شب و روز تیرے پیچھے بھٹکتے رہنا

شعر 2شعرِ غزل

تمہیں یاد ہوگا تمہاری دید کی خاطر

ہمارا ان بسوں کی کھڑکیوں سے لپکتے رہنا

شعر 3شعرِ غزل

ہمیں دیکھ کر نہ آتا تھا کبھی ترس تمہیں

تمہارا نظر اندازی سے آنکھوں کو جھپکتے رہنا

شعر 4شعرِ غزل

کتنا غم دید تھا ہم پر تیرا گزرا ہوا ماضی

تیرے غم میں آنکھوں سے آنسوؤں کا ٹپکتے رہنا

شعر 5شعرِ غزل

گرا تو بہت دفعہ تمہاری بے رخی کے عوض

گر کے اٹھنا، اٹھ کے گرنا اور اکثر ہمارا سنبھلتے رہنا

شعر 6شعرِ غزل

تمہیں دیکھ کر کیوں ہو جاتی تھیں تیز نبضیں

اور کیوں بے ساختہ ہمارے دل کا یوں دھڑکتے رہنا

شعر 7شعرِ غزل

تیری آنکھیں تھیں مے خانہ اور ساقی تھی تو خود

وہ ہمارا تیری آنکھوں کے جام کو یوں ترستے رہنا

شعر 8شعرِ غزل

تمہارے آنے سے جو وہ چلتی تھی تیز غم کی آندھی

گرجتے تھے دل پہ بادل اور اوپر سے تمہارا برستے رہنا

مقطعشعرِ غزل

وہ جو سرخ ہونٹوں پہ آتی تھی کبھی تبسم کی لہر

دانتوں کے نیچے ہونٹ لے کر تیرا گلاب کی پتی کو مسلتے رہنا

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-08
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ