مطلعشعرِ غزل
لوگو پوچھتے ہیں ہم سے اکثر محبتوں کے قصے
ہم چھپاتے ہیں غم اپنے اور ٹوٹے قلب کے حصے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
لوگو پوچھتے ہیں ہم سے اکثر محبتوں کے قصے
ہم چھپاتے ہیں غم اپنے اور ٹوٹے قلب کے حصے
حرکت نہیں دیتے ہم زباں کو بلکہ جزوِ اجسام کو
دکھاتے ہیں ان کو ان کے غم میں شعر لکھے
کتنوں سے دل لگایا اور کتنوں نے دل دکھایا
اور کتنے اہل حسن ہماری آنکھوں کے سامنے بکے
ہوئے برباد کتنے سلاطین اس روایت کو زندہ کرتے
کتنے نامور عشاق تاریخی صفحات سے مٹے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ