مطلعشعرِ غزل
ہو جائیں خدارا ہم دنیا کی ہر الفت سے بے نیاز
محبت رہے نہ دل لگی نہ ہی عشق کرے پرواز

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہو جائیں خدارا ہم دنیا کی ہر الفت سے بے نیاز
محبت رہے نہ دل لگی نہ ہی عشق کرے پرواز
ہمہ تن گوش ہو جائے جس کے ایک لفظ سے وجود
پناہ چاہتا ہوں خدارا اب کبھی آئے نہ وہ آواز
ہو پاک اس کا بھی قلب دنیا کی ہر اک غرض سے
میرے محبوب کو کر دے مولا ہر غم سے سرفراز
کاش دل کی دنیا ہی بدل جائے عشقِ رسول میں
خدارا بن جائیں اسباب کریں ایسے سفر کا ہم آغاز
روشن ہو جس کا ظاہر و باطن سنتِ رسول سے
یا خدا ایسے دوست کی صحبت سے سب کو نواز
کر دے لبریز ہمارے قلوب کو عشقِ حقیقی سے مولا
دنیا اور حصولِ دنیا کا باقی نہ رہے کوئی جواز

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ