مطلعشعرِ غزل
کتنے بے باک ہیں آپ یہ جواز کوئی جواز نہیں
ہو جائیں ہم ناراض تمہیں کوئی اس کا لحاظ نہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کتنے بے باک ہیں آپ یہ جواز کوئی جواز نہیں
ہو جائیں ہم ناراض تمہیں کوئی اس کا لحاظ نہیں
تیری زندگی میں ہی محض یہ نشیب و فراز نہیں
تجھ جیسوں کے رویوں سے ہے یہ میری کتاب لبریز
ابھی عیاں ہوا نہ ہو جو مجھ پر وہ کون سا راز نہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ