CANON-GHAZAL-16 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر: 16

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-16
مطلعشعرِ غزل

​دھیرے دھیرے جب تیرے دیے زخم بھرتے ہیں

اک ہوا کا جھونکا آنے سے سوکھے پتے جھڑتے ہیں

شعر 2شعرِ غزل

یہ بھی معلوم ہے کہ وہ کتنا ہے بے قدر و لاپرواہ

مانتا نہیں دلِ ناداں ہم پھر بھی اعتبار کرتے ہیں

شعر 3شعرِ غزل

حال ہی میں جس نے پھول مہکتا پکڑ کے توڑا تھا

سمجھنے سے قاصر ہوں ہم ابھی اس پہ مرتے ہیں

شعر 4شعرِ غزل

دل چاہتا ہے ٹوٹ کر پھر اس کا دامن تھام لوں

نہ کبھی اپنے شجر سے دوبارہ ملنے سے ڈرتے ہیں

شعر 5شعرِ غزل

وہ وہ ہے کہ جس نے ہمیں رلایا ہجر میں

ہم ہم ہیں کہ ان کے لیے لوگوں سے لڑتے ہیں

شعر 6شعرِ غزل

ہر طرف سے جس شخص نے رابطے منقطع کر دیے

رات بھر جاگ کر اس کے میسج کا انتظار کرتے ہیں

شعر 7شعرِ غزل

متجسس ہوں محب آپ ہیں یا وہ حب دار آپ کا

اور اتنی ناراضگیوں کے بعد تعلق کیسے بڑھتے ہیں

مقطعشعرِ غزل

ہم ساقی و مے خور کے خادم ہیں مے خانہ میں

عثمان پیتے ہیں اور حسن جام بھرتے ہیں

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-16
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ