CANON-GHAZAL-17 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر :17

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-17
مطلعشعرِ غزل

​ہو گیا آغاز اس کے ستموں کا جس پر تھا بہت بھرم

جن کی آواز، لہجہ اور قلب بظاہر تھا بہت نرم

شعر 2شعرِ غزل

تھی قساوتِ قلبی کہیں نہاں لہجوں کے پسِ پشت

شیریں گفتار اور مخفی ہم سے بات کرنے کا عزم

شعر 3شعرِ غزل

ہوئیں ختم محفلیں، زندگی میں اس کے آنے سے قبل

اب وہ اور ہم تھے، تھی یہی محبت کی آخری بزم

شعر 4شعرِ غزل

بکھر گیا لکھنے کا ہنر اور نہ رہا باقی شاعری کا شغف

میری زندگی میں بعد عرصے کے آیا قطعہ، غزل، نظم

شعر 5شعرِ غزل

نہیں ہو سکا معلوم آج تک اس کی حقیقتوں کا عکس

نشیب و فراز لمحہ بھر میں، نہ کچھ ہو سکا ہضم

شعر 6شعرِ غزل

لمحہ بھر کی وہ خفگیاں اور لمحہ بھر کی مسکراہٹیں

کیسے یہ بھول جاؤں کیے اس کے اپنی ذات پہ کرم

شعر 7شعرِ غزل

ہو جاتا سرزد اگر کوئی زخم اس کے اقوال و افعال سے

ہمدردی تھی محض اس کی میرے زخموں کی مرہم

شعر 8شعرِ غزل

کیا ہوا اچانک کہ وہ مجھے چھوڑ گیا بیچ راہ

نہ بحث اور نہ کوئی عذر سبھی رابطے بھی ختم

شعر 9شعرِ غزل

وہ مخلص تھا یا وقت گزار کیا حقیقت ہے مبہم

ہم مخلص تھے مخلص ہیں چاہے لے لو یہ قسم

شعر 10شعرِ غزل

کیں منتیں ہزار بلا عذر وہ جو روٹھے بیسیوں دفعہ

پھر بھی منتظر رہا اس کے لیے میرے قلب کا حرم

مقطعشعرِ غزل

پہلے بھی تھی کچھ خفگیاں مگر انداز نرالے تھے

قابلِ مذمت ہے علی آخر پہ وہ جو کر گئے ہیں ظلم

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-17
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ