ہو گیا آغاز اس کے ستموں کا جس پر تھا بہت بھرم
جن کی آواز، لہجہ اور قلب بظاہر تھا بہت نرم

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہو گیا آغاز اس کے ستموں کا جس پر تھا بہت بھرم
جن کی آواز، لہجہ اور قلب بظاہر تھا بہت نرم
تھی قساوتِ قلبی کہیں نہاں لہجوں کے پسِ پشت
شیریں گفتار اور مخفی ہم سے بات کرنے کا عزم
ہوئیں ختم محفلیں، زندگی میں اس کے آنے سے قبل
اب وہ اور ہم تھے، تھی یہی محبت کی آخری بزم
بکھر گیا لکھنے کا ہنر اور نہ رہا باقی شاعری کا شغف
میری زندگی میں بعد عرصے کے آیا قطعہ، غزل، نظم
نہیں ہو سکا معلوم آج تک اس کی حقیقتوں کا عکس
نشیب و فراز لمحہ بھر میں، نہ کچھ ہو سکا ہضم
لمحہ بھر کی وہ خفگیاں اور لمحہ بھر کی مسکراہٹیں
کیسے یہ بھول جاؤں کیے اس کے اپنی ذات پہ کرم
ہو جاتا سرزد اگر کوئی زخم اس کے اقوال و افعال سے
ہمدردی تھی محض اس کی میرے زخموں کی مرہم
کیا ہوا اچانک کہ وہ مجھے چھوڑ گیا بیچ راہ
نہ بحث اور نہ کوئی عذر سبھی رابطے بھی ختم
وہ مخلص تھا یا وقت گزار کیا حقیقت ہے مبہم
ہم مخلص تھے مخلص ہیں چاہے لے لو یہ قسم
کیں منتیں ہزار بلا عذر وہ جو روٹھے بیسیوں دفعہ
پھر بھی منتظر رہا اس کے لیے میرے قلب کا حرم
پہلے بھی تھی کچھ خفگیاں مگر انداز نرالے تھے
قابلِ مذمت ہے علی آخر پہ وہ جو کر گئے ہیں ظلم

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ