CANON-GHAZAL-21 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر:21

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-21
مطلعشعرِ غزل

​ہماری ذات، صفات، اور عادات پوچھتے ہو

مجھے جانتے ہو پھر بھی اوقات پوچھتے ہو

شعر 2شعرِ غزل

ہے معلوم کس تاریخ، وقت، شام کو ملے تھے ہم

آپ انجان بن کر پھر کیوں وہ رات پوچھتے ہو

شعر 3شعرِ غزل

آندھی تھی، طوفان تھا یا تاروں بھری رات تھی

بھیگ گئے تھے آپ پھر بھی برسات پوچھتے ہو

شعر 4شعرِ غزل

دل توڑتے ہو نظر انداز کرتے ہو وقت بھی نہیں دیتے

پھر بھی ہم سے روٹھ جانے کی وجوہات پوچھتے ہو

مقطعشعرِ غزل

آشنا جو ہو صنم تم گزرے ہوئے ماضی سے

آگے کا سوچو کیوں گزرے ہوئے لمحات پوچھتے ہو

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-21
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ