مطلعشعرِ غزل
قلب میں جو بات ہے اب اسے نہ راز رہنے دو
عرصہ سے ہیں جو چھپا بیٹھے آج تو کہنے دو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
قلب میں جو بات ہے اب اسے نہ راز رہنے دو
عرصہ سے ہیں جو چھپا بیٹھے آج تو کہنے دو
جو درد دیا تھا تم نے ہمیں محبت کی آڑ میں
نہ رحم کھاؤ ہم پر اب ہمیں اکیلے سہنے دو
نہ پونچھو آنسو اب اپنے ہاتھوں سے میرے
تو نے نکالے ہیں صنم تو اب مکمل بہنے دو

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ