مطلعشعرِ غزل
کیا ہم سے واقف ہو اے زمانے والو
ہمارے روٹھنے پر نہ ہم کو منانے والو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کیا ہم سے واقف ہو اے زمانے والو
ہمارے روٹھنے پر نہ ہم کو منانے والو
اپنی ہی انا میں مستغرق ہوکر
تم شب و روز ہم کو تڑپانے والو
ہم سے عہد کرکے زندگی بھر سفر کے
منزل سے پہلے چھوڑ کے جانے والو

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ