CANON-NAZM-06 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر : 6

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-06
شعر 1شعرِ غزل

​کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں

دل نہیں لگتا کسی شے میں کیوں بدحواس ہو جاتا ہوں

شعر 2شعرِ غزل

فرق نہیں کر پاتا دوست میں نہ ہی دشمنوں میں اکثر

مشکل میں جو ساتھ دے اسی کا احساس ہو جاتا ہوں

شعر 3شعرِ غزل

جو میری اوقات سے ہو واقف پھر ساتھ نہ چھوڑے

چاہے میں کتنا بھی گرا ہوں میرا دل نہ کبھی توڑے

شعر 4شعرِ غزل

نہ خواب خیال نہ حال میں دوڑے

میرے ساتھ ہی ہر مشکل کو چادر کی طرح اوڑھے

شعر 5شعرِ غزل

طالب ہوں نہ اس کا متلاشی ہوں ازل سے

جو وفا لے کے نہ دے کام لے نہ عدل سے

شعر 6شعرِ غزل

بھٹکا دیتا ہے مجھے اکثر وہی منزل سے

جو استفادہ نہ کرے میری کسی غزل سے

شعر 7شعرِ غزل

نازک نہ ہو کیوں وہ زیادہ مخمل سے

نکال دیتا ہوں اسے میں یوں دل سے

شعر 8شعرِ غزل

انہیں امراء کے لیے دل اکثر افلاس ہو جاتا ہوں

کسی غرض کے سوا انہیں بلاتا نہیں ہوں

شعر 9شعرِ غزل

انہیں کی طرح بے انصاف ہو جاتا ہوں۔

بند نمبر 1نظم

​کبھی اپنی نشست پر بیٹھ کر میں بہت اداس ہو جاتا ہوں

دل نہیں لگتا کسی شے میں کیوں بدحواس ہو جاتا ہوں

فرق نہیں کر پاتا دوست میں نہ ہی دشمنوں میں اکثر

مشکل میں جو ساتھ دے اسی کا احساس ہو جاتا ہوں

بند نمبر 2نظم

جو میری اوقات سے ہو واقف پھر ساتھ نہ چھوڑے

چاہے میں کتنا بھی گرا ہوں میرا دل نہ کبھی توڑے

نہ خواب خیال نہ حال میں دوڑے

میرے ساتھ ہی ہر مشکل کو چادر کی طرح اوڑھے

بند نمبر 3نظم

طالب ہوں نہ اس کا متلاشی ہوں ازل سے

جو وفا لے کے نہ دے کام لے نہ عدل سے

بھٹکا دیتا ہے مجھے اکثر وہی منزل سے

جو استفادہ نہ کرے میری کسی غزل سے

بند نمبر 4نظم

نازک نہ ہو کیوں وہ زیادہ مخمل سے

نکال دیتا ہوں اسے میں یوں دل سے

انہیں امراء کے لیے دل اکثر افلاس ہو جاتا ہوں

کسی غرض کے سوا انہیں بلاتا نہیں ہوں

بند نمبر 5نظم

انہیں کی طرح بے انصاف ہو جاتا ہوں۔

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-06
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ