یہ مفلسی ہے دوست میری دیا اسی نے مجھے دھوکا
مجھے چھوڑ جانے کا دوستوں کو اسی نے دیا موقع

اردو شاعری اور فکری محفوظات
یہ مفلسی ہے دوست میری دیا اسی نے مجھے دھوکا
مجھے چھوڑ جانے کا دوستوں کو اسی نے دیا موقع
پوری زندگی رکھ کے باوفا ہر موڑ پر مجھے سزا دی
کرتا جس سے بھی میں وفا کرتا اس دوست نے اسے انا دی
میری ہر ادا کے بدلے ادا نہ اور وفا کے بدلے وفا نہ تھی
اس نے رکھ کے مجھے اوقات میں ہر موڑ پر انہیں دعا دی
ادیب ہوں تو بدولت اس کے شاعر ہوں تو اسی کی خاطر
اسی دوست نے میری حیات میں سب سے بڑھ کر وفا کی
یہ مفلسی ہے دوست میری دیا اسی نے مجھے دھوکا
مجھے چھوڑ جانے کا دوستوں کو اسی نے دیا موقع
پوری زندگی رکھ کے باوفا ہر موڑ پر مجھے سزا دی
کرتا جس سے بھی میں وفا کرتا اس دوست نے اسے انا دی
میری ہر ادا کے بدلے ادا نہ اور وفا کے بدلے وفا نہ تھی
اس نے رکھ کے مجھے اوقات میں ہر موڑ پر انہیں دعا دی
ادیب ہوں تو بدولت اس کے شاعر ہوں تو اسی کی خاطر
اسی دوست نے میری حیات میں سب سے بڑھ کر وفا کی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ