شعر 1شعرِ غزل
ہوا معلوم منزل پر پہنچ کر ہمیں
علی ابھی تو ہم رستے میں ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہوا معلوم منزل پر پہنچ کر ہمیں
علی ابھی تو ہم رستے میں ہیں
جہاں ہوتی نہیں قدر خوشبودار پھولوں کی
مجھے کانٹوں نے بتایا ہم اس گلدستے میں ہیں۔
نہیں ہوتا جن کتابوں کو پڑھنے والوں کا سایہ میسر
ایسے بے حس ادارے کے طلباء کے بستے میں ہیں۔
ناممکن ہے منزل محض دشوار نہیں کہتے
ہم ایسے بزدل سپاہیوں کے دستے میں ہیں۔
ہوا معلوم منزل پر پہنچ کر ہمیں
علی ابھی تو ہم رستے میں ہیں
جہاں ہوتی نہیں قدر خوشبودار پھولوں کی
مجھے کانٹوں نے بتایا ہم اس گلدستے میں ہیں۔
نہیں ہوتا جن کتابوں کو پڑھنے والوں کا سایہ میسر
ایسے بے حس ادارے کے طلباء کے بستے میں ہیں۔
ناممکن ہے منزل محض دشوار نہیں کہتے
ہم ایسے بزدل سپاہیوں کے دستے میں ہیں۔

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ