کل اک شخص کا بے چینی سے علی بڑا رہا منتظر
جب وہ آیا غیر حاضر پایا جب ملا تو بھی مختصر

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کل اک شخص کا بے چینی سے علی بڑا رہا منتظر
جب وہ آیا غیر حاضر پایا جب ملا تو بھی مختصر
سلام لے کر مجھ سے چل پڑا کہا کہ پھر ملیں شام کو
کہ کہا میں نماز پڑھ لوں ترجیح دینا رات طعام کو
وہ چل پڑا ادھر میں چلا ادھر گفتگو پہنچی انجام کو
رہا ساری نماز میں سوچتا ملاقات پہنچ گئی اختتام کو
اس سے بھی کام بڑھنے لگا امام پہنچ گیا آخر سلام کو
پھر گھر والوں نے طلب کیا تیرا اک دوست آنا تھا شام کو
جس کے لیے یہ اہتمام کیا اب لاؤ تو اس مہمان کو
آخر باہر سے مجھے آواز آئی میری نظر اٹھ گئی آسمان کو
بلایا مجھے واسطے طلبِ آرزو جیسے بلاتے ہیں انجان کو
علی ملا اس کو مسکراتے ہوئے اپنے سب غم چھپاتے ہوئے
جس کا میں رہا کچھ منتظر آخر ہو گیا انہی سے منتشر
کل اک شخص کا بے چینی سے علی بڑا رہا منتظر
جب وہ آیا غیر حاضر پایا جب ملا تو بھی مختصر
سلام لے کر مجھ سے چل پڑا کہا کہ پھر ملیں شام کو
کہ کہا میں نماز پڑھ لوں ترجیح دینا رات طعام کو
وہ چل پڑا ادھر میں چلا ادھر گفتگو پہنچی انجام کو
رہا ساری نماز میں سوچتا ملاقات پہنچ گئی اختتام کو
اس سے بھی کام بڑھنے لگا امام پہنچ گیا آخر سلام کو
پھر گھر والوں نے طلب کیا تیرا اک دوست آنا تھا شام کو
جس کے لیے یہ اہتمام کیا اب لاؤ تو اس مہمان کو
آخر باہر سے مجھے آواز آئی میری نظر اٹھ گئی آسمان کو
بلایا مجھے واسطے طلبِ آرزو جیسے بلاتے ہیں انجان کو
علی ملا اس کو مسکراتے ہوئے اپنے سب غم چھپاتے ہوئے
جس کا میں رہا کچھ منتظر آخر ہو گیا انہی سے منتشر

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ