یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی
کہ کسی کی دہلیز پہ جاکر ہم اپنے اشعار سنائیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی
کہ کسی کی دہلیز پہ جاکر ہم اپنے اشعار سنائیں
جو مجھے چھوڑ گئے ماضی میں برے حالات دیکھ کر
زیادتی تو واضح ہے ان کی پر کیوں ان کے کردار سنائیں
جن طبیبوں کے معائنوں کا طلبگار تھا یہ مریض
مجھے ملے تو باعثِ وبا کیسے اصل میں بیمار سنائیں
الفاظ نہیں ملتے تھے ہمیں بغیر ان کی زیارت کے
دید کی خاطر کبھی غمگیں کبھی حسین کیسے انتظار سنائیں
ہمارے دل کے ٹکڑے ہوتے تھے بغیر تلوار کی دھار سے
انہیں کے تلخ لہجوں سے کیسے وہ معجب آسار سنائیں
وقت تھا ہم بیٹھتے تھے محبوب کے ساتھ سرگوشی میں
حسیں لمحوں کی یادیں کیسے کیے ان سے پیار سنائیں
اگر تم متجسس ہو ہمارے دیوان کی مختلف اغزال سے
جتنی بھی لکھیں دکھ میں لکھیں بیتے ساتھ ان احوال کے
تو ہم داعی ہیں ان کے ہماری دہلیز پر وہ آئیں
عاجزی کا لبادہ اوڑھ کر تنہائی میں تشریف لائیں
خاموشیوں کی گہرائی میں بیٹھ کر اپنے قدیم آثار سنائیں
جن حقائق سے ہو تم معترض واضح کرکے تمہیں سنائیں
جن پہاڑوں کی بلندی نہ ماپ سکا کوئی فرنگی
اپنے ساتھ کیے مظالم غموں کے پہاڑ دکھائیں۔
یہ میرے الفاظ کی سرعام بے حرمتی ہے علی
کہ کسی کی دہلیز پہ جاکر ہم اپنے اشعار سنائیں
جو مجھے چھوڑ گئے ماضی میں برے حالات دیکھ کر
زیادتی تو واضح ہے ان کی پر کیوں ان کے کردار سنائیں
جن طبیبوں کے معائنوں کا طلبگار تھا یہ مریض
مجھے ملے تو باعثِ وبا کیسے اصل میں بیمار سنائیں
الفاظ نہیں ملتے تھے ہمیں بغیر ان کی زیارت کے
دید کی خاطر کبھی غمگیں کبھی حسین کیسے انتظار سنائیں
ہمارے دل کے ٹکڑے ہوتے تھے بغیر تلوار کی دھار سے
انہیں کے تلخ لہجوں سے کیسے وہ معجب آسار سنائیں
وقت تھا ہم بیٹھتے تھے محبوب کے ساتھ سرگوشی میں
حسیں لمحوں کی یادیں کیسے کیے ان سے پیار سنائیں
اگر تم متجسس ہو ہمارے دیوان کی مختلف اغزال سے
جتنی بھی لکھیں دکھ میں لکھیں بیتے ساتھ ان احوال کے
تو ہم داعی ہیں ان کے ہماری دہلیز پر وہ آئیں
عاجزی کا لبادہ اوڑھ کر تنہائی میں تشریف لائیں
خاموشیوں کی گہرائی میں بیٹھ کر اپنے قدیم آثار سنائیں
جن حقائق سے ہو تم معترض واضح کرکے تمہیں سنائیں
جن پہاڑوں کی بلندی نہ ماپ سکا کوئی فرنگی
اپنے ساتھ کیے مظالم غموں کے پہاڑ دکھائیں۔

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ