CANON-NAZM-34 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر: 34

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-34
شعر 1شعرِ غزل

حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں

سن اب ہم بھی اپنے مزاج کے لوگ ہیں

شعر 2شعرِ غزل

عادت ڈال کر اپنی جو چھوڑ جائیں

ہے کسی کو کچھ علم یہ کس سماج کے لوگ ہیں

شعر 3شعرِ غزل

حق ہے کہ پلٹیں اور ایسا پلٹیں نہ لوٹیں کبھی

اسی سزا کے ہیں مستحق، اسی علاج کے لوگ ہیں

شعر 4شعرِ غزل

اپنی ہی انا میں جو رہیں ہر لمحہ علی مستغرق

نہ وہ خود اپنے ہیں نہ ہی ہمارے کام کاج کے لوگ ہیں

بند نمبر 1نظم

حسن تجھے مبارک ہوں تیری صحبتیں

سن اب ہم بھی اپنے مزاج کے لوگ ہیں

عادت ڈال کر اپنی جو چھوڑ جائیں

ہے کسی کو کچھ علم یہ کس سماج کے لوگ ہیں

بند نمبر 2نظم

حق ہے کہ پلٹیں اور ایسا پلٹیں نہ لوٹیں کبھی

اسی سزا کے ہیں مستحق، اسی علاج کے لوگ ہیں

اپنی ہی انا میں جو رہیں ہر لمحہ علی مستغرق

نہ وہ خود اپنے ہیں نہ ہی ہمارے کام کاج کے لوگ ہیں

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-34
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ