CANON-NAZM-35 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر 35 (سویرا اور اندھیرا)

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-35
شعر 1شعرِ غزل

​ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک

جذباتی شخص جیسے دیتا ہے اپنی زوجہ کو طلاق

شعر 2شعرِ غزل

پارہ قلب میری وفاؤں کا ہے علم سب تجھے

نہیں کوئی گلہ ہم تو آپ کے قدموں کی ہیں خاک

شعر 3شعرِ غزل

دارِ حاضر سے ہوتی ہیں میری یوں مدہوشیاں کہ

ہر لمحہ ہوتا ہے یہ دیوانہ تیرے وصل کا مشتاق

شعر 4شعرِ غزل

خاطر میں اپنی کچھ تو رکھا کر ادب کو ملحوظ

آئے روز تو ہو رہا ہے کتنا اپنے لہجوں میں بے باک

شعر 5شعرِ غزل

اگر دوریاں، تو پیچھے ہیں کچھ واضح مجبوریاں

دور اندیشیوں میں لائیں کچھ تو آپ بھی انہماک

شعر 6شعرِ غزل

آئے دن نئی غزل نئی نظم ملی یوں نئی زندگی ہنر کو

مفیض ہوئے ہیں تیرے نام سے میری ڈائری کے اوراق

شعر 7شعرِ غزل

پکڑا دیتا ہے ہاتھ میں اتار کر تو سبھی عزتیں میری

مشکل سے اگر ہو جائے تجھ سے بات کرنے کا اتفاق

شعر 8شعرِ غزل

سہہ لیں گے ستم چاہ کر بھی نہ چھوڑیں گے تجھے

ہم تو کرواتے رہیں گے تجھ سے اپنے سینے کو چاک

شعر 9شعرِ غزل

ایک بات تو اے پارہ قلب بتا یک دم کیا ہو گیا تجھے

زبان کا جو تو نرم تھا اس قدر کیسے ہو گیا سفاک

شعر 10شعرِ غزل

میں بے غیرت، بیوقوف اور میں کمینہ ہی سہی

در کا کتا ہی سمجھ کر علی ہمارے بن جائیں املاک

بند نمبر 1نظم

​ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک

جذباتی شخص جیسے دیتا ہے اپنی زوجہ کو طلاق

پارہ قلب میری وفاؤں کا ہے علم سب تجھے

نہیں کوئی گلہ ہم تو آپ کے قدموں کی ہیں خاک

بند نمبر 2نظم

دارِ حاضر سے ہوتی ہیں میری یوں مدہوشیاں کہ

ہر لمحہ ہوتا ہے یہ دیوانہ تیرے وصل کا مشتاق

خاطر میں اپنی کچھ تو رکھا کر ادب کو ملحوظ

آئے روز تو ہو رہا ہے کتنا اپنے لہجوں میں بے باک

بند نمبر 3نظم

اگر دوریاں، تو پیچھے ہیں کچھ واضح مجبوریاں

دور اندیشیوں میں لائیں کچھ تو آپ بھی انہماک

آئے دن نئی غزل نئی نظم ملی یوں نئی زندگی ہنر کو

مفیض ہوئے ہیں تیرے نام سے میری ڈائری کے اوراق

بند نمبر 4نظم

پکڑا دیتا ہے ہاتھ میں اتار کر تو سبھی عزتیں میری

مشکل سے اگر ہو جائے تجھ سے بات کرنے کا اتفاق

سہہ لیں گے ستم چاہ کر بھی نہ چھوڑیں گے تجھے

ہم تو کرواتے رہیں گے تجھ سے اپنے سینے کو چاک

بند نمبر 5نظم

ایک بات تو اے پارہ قلب بتا یک دم کیا ہو گیا تجھے

زبان کا جو تو نرم تھا اس قدر کیسے ہو گیا سفاک

میں بے غیرت، بیوقوف اور میں کمینہ ہی سہی

در کا کتا ہی سمجھ کر علی ہمارے بن جائیں املاک

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-35
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ