ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک
جذباتی شخص جیسے دیتا ہے اپنی زوجہ کو طلاق

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک
جذباتی شخص جیسے دیتا ہے اپنی زوجہ کو طلاق
پارہ قلب میری وفاؤں کا ہے علم سب تجھے
نہیں کوئی گلہ ہم تو آپ کے قدموں کی ہیں خاک
دارِ حاضر سے ہوتی ہیں میری یوں مدہوشیاں کہ
ہر لمحہ ہوتا ہے یہ دیوانہ تیرے وصل کا مشتاق
خاطر میں اپنی کچھ تو رکھا کر ادب کو ملحوظ
آئے روز تو ہو رہا ہے کتنا اپنے لہجوں میں بے باک
اگر دوریاں، تو پیچھے ہیں کچھ واضح مجبوریاں
دور اندیشیوں میں لائیں کچھ تو آپ بھی انہماک
آئے دن نئی غزل نئی نظم ملی یوں نئی زندگی ہنر کو
مفیض ہوئے ہیں تیرے نام سے میری ڈائری کے اوراق
پکڑا دیتا ہے ہاتھ میں اتار کر تو سبھی عزتیں میری
مشکل سے اگر ہو جائے تجھ سے بات کرنے کا اتفاق
سہہ لیں گے ستم چاہ کر بھی نہ چھوڑیں گے تجھے
ہم تو کرواتے رہیں گے تجھ سے اپنے سینے کو چاک
ایک بات تو اے پارہ قلب بتا یک دم کیا ہو گیا تجھے
زبان کا جو تو نرم تھا اس قدر کیسے ہو گیا سفاک
میں بے غیرت، بیوقوف اور میں کمینہ ہی سہی
در کا کتا ہی سمجھ کر علی ہمارے بن جائیں املاک
ایسے کرتا ہے آئے روز مجھے محبوب میرا بلاک
جذباتی شخص جیسے دیتا ہے اپنی زوجہ کو طلاق
پارہ قلب میری وفاؤں کا ہے علم سب تجھے
نہیں کوئی گلہ ہم تو آپ کے قدموں کی ہیں خاک
دارِ حاضر سے ہوتی ہیں میری یوں مدہوشیاں کہ
ہر لمحہ ہوتا ہے یہ دیوانہ تیرے وصل کا مشتاق
خاطر میں اپنی کچھ تو رکھا کر ادب کو ملحوظ
آئے روز تو ہو رہا ہے کتنا اپنے لہجوں میں بے باک
اگر دوریاں، تو پیچھے ہیں کچھ واضح مجبوریاں
دور اندیشیوں میں لائیں کچھ تو آپ بھی انہماک
آئے دن نئی غزل نئی نظم ملی یوں نئی زندگی ہنر کو
مفیض ہوئے ہیں تیرے نام سے میری ڈائری کے اوراق
پکڑا دیتا ہے ہاتھ میں اتار کر تو سبھی عزتیں میری
مشکل سے اگر ہو جائے تجھ سے بات کرنے کا اتفاق
سہہ لیں گے ستم چاہ کر بھی نہ چھوڑیں گے تجھے
ہم تو کرواتے رہیں گے تجھ سے اپنے سینے کو چاک
ایک بات تو اے پارہ قلب بتا یک دم کیا ہو گیا تجھے
زبان کا جو تو نرم تھا اس قدر کیسے ہو گیا سفاک
میں بے غیرت، بیوقوف اور میں کمینہ ہی سہی
در کا کتا ہی سمجھ کر علی ہمارے بن جائیں املاک

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ