شعر 1شعرِ غزل
(دارِ بے وفا)
ہے دار یہ بے وفا نہیں آج کی بلکہ پرانی ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
(دارِ بے وفا)
ہے دار یہ بے وفا نہیں آج کی بلکہ پرانی ہے
بات حق پر ہے منحصر نہ سمجھنا کہانی ہے
کردار اوجّھل ہے نگاہوں سے اس کے
اور مال و زر کی ہی یہ دیوانی ہے
بے فضول ہے یہ مانند سمندر کی
نہ کبھی کام آنے والا پانی ہے۔
(دارِ بے وفا)
ہے دار یہ بے وفا نہیں آج کی بلکہ پرانی ہے
بات حق پر ہے منحصر نہ سمجھنا کہانی ہے
کردار اوجّھل ہے نگاہوں سے اس کے
اور مال و زر کی ہی یہ دیوانی ہے
بے فضول ہے یہ مانند سمندر کی
نہ کبھی کام آنے والا پانی ہے۔

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ