CANON-NAZM-42 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

42 نمبر نظم

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-42
شعر 1شعرِ غزل

(دارِ بے وفا)

​ہے دار یہ بے وفا نہیں آج کی بلکہ پرانی ہے

شعر 2شعرِ غزل

بات حق پر ہے منحصر نہ سمجھنا کہانی ہے

کردار اوجّھل ہے نگاہوں سے اس کے

شعر 3شعرِ غزل

اور مال و زر کی ہی یہ دیوانی ہے

بے فضول ہے یہ مانند سمندر کی

شعر 4شعرِ غزل

نہ کبھی کام آنے والا پانی ہے۔

بند نمبر 1نظم

(دارِ بے وفا)

​ہے دار یہ بے وفا نہیں آج کی بلکہ پرانی ہے

بات حق پر ہے منحصر نہ سمجھنا کہانی ہے

کردار اوجّھل ہے نگاہوں سے اس کے

بند نمبر 2نظم

اور مال و زر کی ہی یہ دیوانی ہے

بے فضول ہے یہ مانند سمندر کی

نہ کبھی کام آنے والا پانی ہے۔

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-42
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ