شعر 1شعرِ غزل
کرکے چناؤ الفاظ کا علی مختصر کلام کیا کر
اس بزم میں تجھ سے لوگ بیزار ہوتے ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کرکے چناؤ الفاظ کا علی مختصر کلام کیا کر
اس بزم میں تجھ سے لوگ بیزار ہوتے ہیں
جنبش دیں اگر زبان کو تو وہ بھی رسم دار
نفاق کے مریض اکثریت میں وضع دار ہوتے ہیں
دلانی پڑتی ہے خود غیرت ان سے کم گوئی کی
خوابِ غفلت سے ورنہ یہ کہاں بیدار ہوتے ہیں
کرکے چناؤ الفاظ کا علی مختصر کلام کیا کر
اس بزم میں تجھ سے لوگ بیزار ہوتے ہیں
جنبش دیں اگر زبان کو تو وہ بھی رسم دار
نفاق کے مریض اکثریت میں وضع دار ہوتے ہیں
دلانی پڑتی ہے خود غیرت ان سے کم گوئی کی
خوابِ غفلت سے ورنہ یہ کہاں بیدار ہوتے ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ