شعر 1شعرِ غزل
پارہِ قلب ہو گیا اگر مر کے ہم کو تیرا وصل نصیب
مصافحہ نہ کر سکے حالانکہ تھا تو اس قدر قریب

اردو شاعری اور فکری محفوظات
پارہِ قلب ہو گیا اگر مر کے ہم کو تیرا وصل نصیب
مصافحہ نہ کر سکے حالانکہ تھا تو اس قدر قریب
تجھے بھی نہ سمجھ سکا صنم میں لے کر تیری بزم
کیا حقیقت ہے تیری اور ہے تو کس قدر عجیب

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ