شعر 1شعرِ غزل
کہیں گر ہوا متلاشی میں تیرا تو گم ہو جانا اجازت ہے
خدارا یہ لفظ نہ کہنا ہم سے کہ علی سنو اک شکایت ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
کہیں گر ہوا متلاشی میں تیرا تو گم ہو جانا اجازت ہے
خدارا یہ لفظ نہ کہنا ہم سے کہ علی سنو اک شکایت ہے
کسی اور سے دل لگانے کی تمہیں ہرگز نہ کوئی رعایت ہے
جب مریں گے تب جدا ہوں گے یاد رکھنا میری ہدایت ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ