شعر 1شعرِ غزل
ہم محو تھے کبھی تیرے ہی تخیل میں صنم،
خود ہی کر گیا تو محبت کے سب سلسلے ختم

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہم محو تھے کبھی تیرے ہی تخیل میں صنم،
خود ہی کر گیا تو محبت کے سب سلسلے ختم
پارہِ قلب تجھ سے نہیں ہے اب میرا کوئی گلہ،
میرا دل لگی کے معاملے میں ہے رہا یہی صلہ

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ