شعر 1شعرِ غزل
ویسے لگتا تو نہیں آپ بھی ہیں
علی آبدیدہ اس جملے میں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ویسے لگتا تو نہیں آپ بھی ہیں
علی آبدیدہ اس جملے میں
مطلب یہ معلوم ہوا کہ بناوٹ تھی
ئپوشیدہ اس جملے میں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ