مطلعشعرِ غزل
اب کہتی ہے اک جان پھر دنیا سے کنارا کرلو
پناہ دیدو اپنی آغوش میں اور عشق دوبارہ کرلو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
اب کہتی ہے اک جان پھر دنیا سے کنارا کرلو
پناہ دیدو اپنی آغوش میں اور عشق دوبارہ کرلو
جیسے پھرتے تھے کبھی کسی کی تلاش میں آوارہ ہوکر
کنارہ کش ہوکر تنہائیوں سے پھر خود کو آوارہ کر لو
ہم تم ہیں اور تم تم ہو پھر ہم تجھ میں کیوں گم ہیں
ایک بار بھلادو خود کو دوبارہ اور ہم کو تم تمہارا کرلو
سنا ہے اہل حسن کی آنکھوں سے تم پیتے تھے شراب
ڈالو نظریں ہماری آنکھوں میں اور ساقی کا نظارہ کرلو
سنا ہے تم لیتے تھے حصولِ صنم کے لیے تعویز
ہمیں اپنا لو پھر ہم سے وفا لو ایک بار پھر استخارہ کرلو

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ