قلب سے کب صدا نکلی کہ تو سمجھتا خود کو کیا ہے
دل کی طرف میں نے نگاہ کی اور کہا کہ تو بجھا ہے

اردو شاعری اور فکری محفوظات
قلب سے کب صدا نکلی کہ تو سمجھتا خود کو کیا ہے
دل کی طرف میں نے نگاہ کی اور کہا کہ تو بجھا ہے
ڈانٹتا ہوں خود کو ہر لمحہ بحرِ قلب کی سونامی سے
کسی نے نظریں ملائیں تھیں اس میں میرا کیا گناہ ہے
محظوظ ہو رہے ہیں وہ خود تو دیارِ مطلب پرستی سے
آغازِ محبت کیا انہوں نے کیوں مل رہی مجھے سزا ہے
جس ادا پہ ہم فدا ہوئے اس کی آنکھیں لبریز تھیں نمی سے
کیا محبوب میرا ہے
ئی ہے یا بتا کس نشے کی وہ نگاہ ہے
بحرِ غم میں ڈوبے ہیں غرق ہوکر کسی کے تخیل میں
جب سے نظریں ملیں ہیں جسم کا بے سکوں ہر عضو ہے
جب بے سہار تھا بنے سہارا اس کا قلب و روح سے چاہ کر
مجھے اب ذرا تم یہ بتاؤ مجھ سے ہوئی کیا خطا ہے
سکون کے متلاشی ہم پہلے سکوں بھی گنوا بیٹھے
زندگی پہلے والی ہے میسر اور نہ ہی ساتھ اس کا ملا ہے
نہ اب ہمیں ذہنی، نہ قلبی، نہ ہی نفسی سکون ہے
یہ تو اصول ہے دنیا فانی کا علی سانسوں سے الگ گلا ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ