CANON-GHAZAL-23 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر : 23

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-23
مطلعشعرِ غزل

​قلب سے کب صدا نکلی کہ تو سمجھتا خود کو کیا ہے

دل کی طرف میں نے نگاہ کی اور کہا کہ تو بجھا ہے

شعر 2شعرِ غزل

ڈانٹتا ہوں خود کو ہر لمحہ بحرِ قلب کی سونامی سے

کسی نے نظریں ملائیں تھیں اس میں میرا کیا گناہ ہے

شعر 3شعرِ غزل

محظوظ ہو رہے ہیں وہ خود تو دیارِ مطلب پرستی سے

آغازِ محبت کیا انہوں نے کیوں مل رہی مجھے سزا ہے

شعر 4شعرِ غزل

جس ادا پہ ہم فدا ہوئے اس کی آنکھیں لبریز تھیں نمی سے

کیا محبوب میرا ہے

شعر 5شعرِ غزل

ئی ہے یا بتا کس نشے کی وہ نگاہ ہے

بحرِ غم میں ڈوبے ہیں غرق ہوکر کسی کے تخیل میں

شعر 6شعرِ غزل

جب سے نظریں ملیں ہیں جسم کا بے سکوں ہر عضو ہے

جب بے سہار تھا بنے سہارا اس کا قلب و روح سے چاہ کر

شعر 7شعرِ غزل

مجھے اب ذرا تم یہ بتاؤ مجھ سے ہوئی کیا خطا ہے

سکون کے متلاشی ہم پہلے سکوں بھی گنوا بیٹھے

شعر 8شعرِ غزل

زندگی پہلے والی ہے میسر اور نہ ہی ساتھ اس کا ملا ہے

نہ اب ہمیں ذہنی، نہ قلبی، نہ ہی نفسی سکون ہے

مقطعشعرِ غزل

یہ تو اصول ہے دنیا فانی کا علی سانسوں سے الگ گلا ہے

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-23
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ