مطلعشعرِ غزل
دیارِ مطلب پرستی سے علم ہوا ہر مسکراہٹ علی مسکان نہیں ہوتی
ہو غرض جسے مسکراتا ہے بری بات پہ بھی دنیا پریشان نہیں ہوتی

اردو شاعری اور فکری محفوظات
دیارِ مطلب پرستی سے علم ہوا ہر مسکراہٹ علی مسکان نہیں ہوتی
ہو غرض جسے مسکراتا ہے بری بات پہ بھی دنیا پریشان نہیں ہوتی
علی بھٹکتا ہوا مسافر اگر کوئی مہمان بن ہی جائے ان کا
خدمت ہوتی ہے مطلب کی مگر دل سے دنیا میزبان نہیں ہوتی
محبت تو اس دور میں شاید بڑے محلوں کی ہی وارث ہے
غریبوں کے لیے اب یہ موزوں دکان نہیں ہوتی

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ