مطلعشعرِ غزل
اک محبوب کی خاطر ہم غزل لکھ رہے ہیں
باحجاب خاطر بھلا ہم کیوں بک رہے ہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
اک محبوب کی خاطر ہم غزل لکھ رہے ہیں
باحجاب خاطر بھلا ہم کیوں بک رہے ہیں
ہم تو مجبور ہیں مشکل حالات کی خاطر
لیکن جو وزیر و مشیر ہیں کیوں مٹ رہے ہیں
نہیں وقت ہمارے لیے اگر مانگیں تو پھر بھی
تیرے رویوں کے تیور ہمیں سب دکھ رہے ہیں
جو قائل نہیں بے حجاب بے نقاب کے سے حسن کے
وہی تو گندم کی طرح چکیوں میں پس رہے ہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ