CANON-GHAZAL-26 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر:26

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-26
مطلعشعرِ غزل

​تو ہے تو سہی اپنے ظاہر و باطن سے پیکرِ حسن و جمیل

روحِ من پھر کیوں ہے حبداروں سے وفا کرنے میں بخیل

شعر 2شعرِ غزل

کیسے بن سکتا ہے محبوب تیرے سوا میری حب کا مرکز

کوئی ہو تو سہی اس دار میں میرے محبوب کی مثیل

شعر 3شعرِ غزل

جو کبھی تھا شب و روز ہر لمحہ ہر پل ہمیں میسر

بہت بڑی ان دنوں لے آیا ہے علی وہ رابطوں میں فصیل

شعر 4شعرِ غزل

اگر یہ عزمِ مصمم ہے تیرا ہمیں بھلانے اور بھولنے کا

حب نہیں ہو سکتی یاد رکھنا تیری میرے قلب سے قلیل

شعر 5شعرِ غزل

خندہ پیشانی سے لیں گے ہم اب تیرے کانٹے بھی صنم

شب و روز اگر قسمت میں ہے تو ہوتے رہیں گے ہم ذلیل

شعر 6شعرِ غزل

غلیظ تصور کی قباحت میں اگر ذہن آلود ہے ابھی تک

حق حشر کو ہوگا معلوم پاس نہیں اب میرے کوئی دلیل

مقطعشعرِ غزل

ہر بحث کے میدان میں فتح جن کی مقدر ہے ہر سطح پر

علی محبت کی بازی ہار گیا جو ہے خود پیشے کا وکیل

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-26
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ