تو ہے تو سہی اپنے ظاہر و باطن سے پیکرِ حسن و جمیل
روحِ من پھر کیوں ہے حبداروں سے وفا کرنے میں بخیل

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تو ہے تو سہی اپنے ظاہر و باطن سے پیکرِ حسن و جمیل
روحِ من پھر کیوں ہے حبداروں سے وفا کرنے میں بخیل
کیسے بن سکتا ہے محبوب تیرے سوا میری حب کا مرکز
کوئی ہو تو سہی اس دار میں میرے محبوب کی مثیل
جو کبھی تھا شب و روز ہر لمحہ ہر پل ہمیں میسر
بہت بڑی ان دنوں لے آیا ہے علی وہ رابطوں میں فصیل
اگر یہ عزمِ مصمم ہے تیرا ہمیں بھلانے اور بھولنے کا
حب نہیں ہو سکتی یاد رکھنا تیری میرے قلب سے قلیل
خندہ پیشانی سے لیں گے ہم اب تیرے کانٹے بھی صنم
شب و روز اگر قسمت میں ہے تو ہوتے رہیں گے ہم ذلیل
غلیظ تصور کی قباحت میں اگر ذہن آلود ہے ابھی تک
حق حشر کو ہوگا معلوم پاس نہیں اب میرے کوئی دلیل
ہر بحث کے میدان میں فتح جن کی مقدر ہے ہر سطح پر
علی محبت کی بازی ہار گیا جو ہے خود پیشے کا وکیل

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ