CANON-GHAZAL-27 • اشاعتِ عام
غزلیںسرگودھا ایڈیشن

غزل نمبر: 27

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-GHAZAL-27
مطلعشعرِ غزل

​ہم نشئی ہوئے مے خور مے خانے میں

ہمسفر بن گیا یوں ہی کوئی انجانے میں

شعر 2شعرِ غزل

وہ تو چھوڑ چکے کب کے بیچ راہ

وقت لگ رہا ہے مجھ کو مجھے سمجھانے میں

شعر 3شعرِ غزل

اس امید پر ہوں کہ کچھ باقی ہوگا

ہاتھ تھامتا تو نہیں ایسے کوئی ویرانے میں

شعر 4شعرِ غزل

شاہین ہی رہتے ہیں شاہینوں کے آشیانے میں

ہر اذیت کاٹی میں نے اس کے ہجر میں

شعر 5شعرِ غزل

کوئی تو معاون ٹھہرے مجھے اسے بھلانے میں

وصال سے تو سنا تھا ممکن ہے محبت کی فتح

شعر 6شعرِ غزل

کسر نہ چھوڑی اس نے ہمیں یہاں بھی ستانے میں

ہمیں وقت تو دیا اس نے چاہے تھوڑا ہی سہی

مقطعشعرِ غزل

عطار سے متاثر ہوکر مرشد عطار کے مستانے نے

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-GHAZAL-27
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ