مطلعشعرِ غزل
ہم نشئی ہوئے مے خور مے خانے میں
ہمسفر بن گیا یوں ہی کوئی انجانے میں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
ہم نشئی ہوئے مے خور مے خانے میں
ہمسفر بن گیا یوں ہی کوئی انجانے میں
وہ تو چھوڑ چکے کب کے بیچ راہ
وقت لگ رہا ہے مجھ کو مجھے سمجھانے میں
اس امید پر ہوں کہ کچھ باقی ہوگا
ہاتھ تھامتا تو نہیں ایسے کوئی ویرانے میں
شاہین ہی رہتے ہیں شاہینوں کے آشیانے میں
ہر اذیت کاٹی میں نے اس کے ہجر میں
کوئی تو معاون ٹھہرے مجھے اسے بھلانے میں
وصال سے تو سنا تھا ممکن ہے محبت کی فتح
کسر نہ چھوڑی اس نے ہمیں یہاں بھی ستانے میں
ہمیں وقت تو دیا اس نے چاہے تھوڑا ہی سہی
عطار سے متاثر ہوکر مرشد عطار کے مستانے نے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ