بے زار ہوئے دوستوں کی بے رغبتی سے ہم
نہیں سنتا اشعار میرے یہی کھا رہا ہے غم

اردو شاعری اور فکری محفوظات
بے زار ہوئے دوستوں کی بے رغبتی سے ہم
نہیں سنتا اشعار میرے یہی کھا رہا ہے غم
کتنے بے درد ہیں خود غرض ہیں آج کل کے صنم
خوش ہوتے ہیں دیکھ کر مجھے مبتلائے ستم
نہیں کہتے ہم حسین ہیں نہ حقیقت ہے یہ عزم
پر بے رغبتی میرے اشعار سے کیا نہیں بڑا ظلم
نہیں سمجھا ان الفاظ کو جو ہیں درحقیقت قلبِ نم
تو انہیں یہیں پر سلام ہے اور سبھی رابطے بھی ختم
بے زار ہوئے دوستوں کی بے رغبتی سے ہم
نہیں سنتا اشعار میرے یہی کھا رہا ہے غم
کتنے بے درد ہیں خود غرض ہیں آج کل کے صنم
خوش ہوتے ہیں دیکھ کر مجھے مبتلائے ستم
نہیں کہتے ہم حسین ہیں نہ حقیقت ہے یہ عزم
پر بے رغبتی میرے اشعار سے کیا نہیں بڑا ظلم
نہیں سمجھا ان الفاظ کو جو ہیں درحقیقت قلبِ نم
تو انہیں یہیں پر سلام ہے اور سبھی رابطے بھی ختم

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ