مجھے یاد ہے جب وہ آیا تھا
ایسے ہاتھ کر کے مجھے بلایا تھا

اردو شاعری اور فکری محفوظات
مجھے یاد ہے جب وہ آیا تھا
ایسے ہاتھ کر کے مجھے بلایا تھا
قصہ چھیڑ کر میری خاموشی کا
بات کرنے کا جو بہانہ بنایا تھا
پہلا کیا اس نے سوال مجھ سے
کیوں چمٹی ہیں تنہائیاں تجھ سے
خاموش ہو کر نہ کچھ بتایا تھا
بلکہ سر اپنے کو بھی ایسے ہلایا تھا
کچھ وقت تھا وہ بیٹھتا پاس میرے
باتوں باتوں میں مجھے سمجھایا تھا
کہ علی نہ رہا کر تو تنہائیوں میں
گئے گزرے ہوؤں کی جدائیوں میں
مجھے یاد ہے جب وہ آیا تھا
ایسے ہاتھ کر کے مجھے بلایا تھا
قصہ چھیڑ کر میری خاموشی کا
بات کرنے کا جو بہانہ بنایا تھا
پہلا کیا اس نے سوال مجھ سے
کیوں چمٹی ہیں تنہائیاں تجھ سے
خاموش ہو کر نہ کچھ بتایا تھا
بلکہ سر اپنے کو بھی ایسے ہلایا تھا
کچھ وقت تھا وہ بیٹھتا پاس میرے
باتوں باتوں میں مجھے سمجھایا تھا
کہ علی نہ رہا کر تو تنہائیوں میں
گئے گزرے ہوؤں کی جدائیوں میں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ