20(شادی خانہ آبادی)
ہم کہہ رہے ہیں کہ مبارک ہو

اردو شاعری اور فکری محفوظات
20(شادی خانہ آبادی)
ہم کہہ رہے ہیں کہ مبارک ہو
آپ کی آج شادی خانہ آبادی ہے
کئی آزاد ذہنوں میں تو شاید
درحقیقت آپ کی بربادی ہے
دانشوروں کی کروں اگر گفتگو
ملی تنہائیوں سے آپ کو آزادی ہے
نہیں وقت جناب کے پاس ہمارے لیے
اصل میں ان کی من پسند جو شادی ہے
ہر طرف ہیں خوشیاں چھائی ہوئیں خوشنما ماحول میں
یوں لگ رہا ہے کہ بڑا چھوٹا محض دولہے کا ہی منادی ہے
کوئی پوچھ رہا ہے دولہے میاں سے مستقبل کی خبریں
ہمارے بھتیجے کا نام کیا ہوگا اور کیا اتنی قوتِ افرادی ہے
اٹھا کر بیڑا سوال کا کوئی ان سے موزوں جواب نہ پا سکا
کہا دولہے نے نظر اندازی سے ڈھلوں تو بہت بڑا فسادی ہے
20(شادی خانہ آبادی)
ہم کہہ رہے ہیں کہ مبارک ہو
آپ کی آج شادی خانہ آبادی ہے
کئی آزاد ذہنوں میں تو شاید
درحقیقت آپ کی بربادی ہے
دانشوروں کی کروں اگر گفتگو
ملی تنہائیوں سے آپ کو آزادی ہے
نہیں وقت جناب کے پاس ہمارے لیے
اصل میں ان کی من پسند جو شادی ہے
ہر طرف ہیں خوشیاں چھائی ہوئیں خوشنما ماحول میں
یوں لگ رہا ہے کہ بڑا چھوٹا محض دولہے کا ہی منادی ہے
کوئی پوچھ رہا ہے دولہے میاں سے مستقبل کی خبریں
ہمارے بھتیجے کا نام کیا ہوگا اور کیا اتنی قوتِ افرادی ہے
اٹھا کر بیڑا سوال کا کوئی ان سے موزوں جواب نہ پا سکا
کہا دولہے نے نظر اندازی سے ڈھلوں تو بہت بڑا فسادی ہے

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ