تیرا کردار اتنا حسین ہے
تیرا حسن، حسنِ بیان نہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تیرا کردار اتنا حسین ہے
تیرا حسن، حسنِ بیان نہیں
تیرا نام ہی لفظِ وفا سے ہے
میرے دل پر جو نہاں نہیں
تیری تعریف کرے علی کیسے بیاں
میرے منہ میں جو ایسی زباں نہیں
تیری شان جو اس مکاں میں ہے
مجھے لگتا ہے علی وہ یہاں نہیں
تیری عزت جو میرے دل میں ہے
یہ بھی سن لو کہ وہ وہاں نہیں
مجھے شک ہے جو علی یہاں ہے
وہ یار تیرا وہاں نہیں
جو تو وہاں ہے
یار وہ کیوں یہاں نہیں
یہ معاملہ تو لگ رہا عجیب ہے
مجھے دو بتا علی کہاں نہیں
خطا جو مرکزِ خفا کا ہے
عزت جو گھرِ وفا کا ہے
حفاظت جو اپنی تو کرتا ہے
تو یہ لفظ اپنے دفاع کا ہے
جو تو عبادت کرتا ہے بشر
صرف مقصد خدا کی رضا کا ہے
جو تو بوجھے وہی تو کاٹے گا
یہ منحصر تو تیری ادا پہ ہے
یہ معاملے بشر ازل سے ہیں
دنیا جو مکافاتِ عمل ہے
سوچ لینا یہ کام سب جہاں نہیں
سمجھ لینا کہ وہ یہ جہاں نہیں
تیرا کردار اتنا حسین ہے
تیرا حسن، حسنِ بیان نہیں
تیرا نام ہی لفظِ وفا سے ہے
میرے دل پر جو نہاں نہیں
تیری تعریف کرے علی کیسے بیاں
میرے منہ میں جو ایسی زباں نہیں
تیری شان جو اس مکاں میں ہے
مجھے لگتا ہے علی وہ یہاں نہیں
تیری عزت جو میرے دل میں ہے
یہ بھی سن لو کہ وہ وہاں نہیں
مجھے شک ہے جو علی یہاں ہے
وہ یار تیرا وہاں نہیں
جو تو وہاں ہے
یار وہ کیوں یہاں نہیں
یہ معاملہ تو لگ رہا عجیب ہے
مجھے دو بتا علی کہاں نہیں
خطا جو مرکزِ خفا کا ہے
عزت جو گھرِ وفا کا ہے
حفاظت جو اپنی تو کرتا ہے
تو یہ لفظ اپنے دفاع کا ہے
جو تو عبادت کرتا ہے بشر
صرف مقصد خدا کی رضا کا ہے
جو تو بوجھے وہی تو کاٹے گا
یہ منحصر تو تیری ادا پہ ہے
یہ معاملے بشر ازل سے ہیں
دنیا جو مکافاتِ عمل ہے
سوچ لینا یہ کام سب جہاں نہیں
سمجھ لینا کہ وہ یہ جہاں نہیں

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ