تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے
تیرا دل کبھی بھی رویا نہیں

اردو شاعری اور فکری محفوظات
تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے
تیرا دل کبھی بھی رویا نہیں
کسی کی خاطر نہ تو فنا ہوا
ختم تمہارے لیے کوئی ہویا نہیں
تمہاری آرزو ہے یہ کہہ رہی
تمہاری جستجو سے معلوم ہے
غم تجھے کوئی ملا نہیں
علی تو تبھی تو اتنا معصوم ہے
یہ بتا رہی ہیں تیری خاموشیاں
ہے اب غم تجھے کوئی مل گیا
تھا ناآشنا تو جس درد سے
کیا تیرے پہلو سے بھی دل گیا
نہ کہا تھا تجھے کہ یہ میٹھا زہر ہے
پھر بھی تو نے ذائقہ چکھ لیا
دل اپنا تو گنوا بیٹھے ہو پہلو سے
دل کیا اس کا بھی پہلو میں رکھ لیا
اب گھبرا رہا، ہے پچھتا رہا
دل ہی دل میں خود کو سمجھا رہا
ہے علم مجھے کہ تو ہے باوفا
کر تم سے بھی وہ کیا وفا رہا
تیری مسکراہٹ یہ کہتی ہے
تیرا دل کبھی بھی رویا نہیں
کسی کی خاطر نہ تو فنا ہوا
ختم تمہارے لیے کوئی ہویا نہیں
تمہاری آرزو ہے یہ کہہ رہی
تمہاری جستجو سے معلوم ہے
غم تجھے کوئی ملا نہیں
علی تو تبھی تو اتنا معصوم ہے
یہ بتا رہی ہیں تیری خاموشیاں
ہے اب غم تجھے کوئی مل گیا
تھا ناآشنا تو جس درد سے
کیا تیرے پہلو سے بھی دل گیا
نہ کہا تھا تجھے کہ یہ میٹھا زہر ہے
پھر بھی تو نے ذائقہ چکھ لیا
دل اپنا تو گنوا بیٹھے ہو پہلو سے
دل کیا اس کا بھی پہلو میں رکھ لیا
اب گھبرا رہا، ہے پچھتا رہا
دل ہی دل میں خود کو سمجھا رہا
ہے علم مجھے کہ تو ہے باوفا
کر تم سے بھی وہ کیا وفا رہا

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب
دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،
ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ