CANON-NAZM-23 • اشاعتِ عام
نظمیںسرگودھا ایڈیشن

نظم نمبر 23

شاعر: محمد علی • ڈھلوں سرگودھیاCatalogue Reference: CANON-NAZM-23
شعر 1شعرِ غزل

​ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں

زخم لیے بیٹے ہیں پہلو میں بہت

شعر 2شعرِ غزل

تبھی زخمی دلوں کی ہم آواز ہیں

جس حب سے ہے ہر اک وفا کا طالب

شعر 3شعرِ غزل

متلاشی اسی محبت کا ہم آغاز ہیں

جو زخم کھا کر ہیں جذبات لکھتے

شعر 4شعرِ غزل

ان مظلوموں میں ہم بے آواز ہیں

اب دوستی کرنا رہی دور کی بات

شعر 5شعرِ غزل

ہاتھ ملانے سے بھی کرتے لحاظ ہیں۔

نہ سمجھنا تعریف خود کی کرتے ہیں بیان

شعر 6شعرِ غزل

علی ہم خاموش چھپا ہوا اک راز ہیں

بند نمبر 1نظم

​ہمیں مت آزمائیں ہم اک راز ہیں

زخم لیے بیٹے ہیں پہلو میں بہت

تبھی زخمی دلوں کی ہم آواز ہیں

جس حب سے ہے ہر اک وفا کا طالب

بند نمبر 2نظم

متلاشی اسی محبت کا ہم آغاز ہیں

جو زخم کھا کر ہیں جذبات لکھتے

ان مظلوموں میں ہم بے آواز ہیں

اب دوستی کرنا رہی دور کی بات

بند نمبر 3نظم

ہاتھ ملانے سے بھی کرتے لحاظ ہیں۔

نہ سمجھنا تعریف خود کی کرتے ہیں بیان

علی ہم خاموش چھپا ہوا اک راز ہیں

محمد علی (ڈھلوں سرگودھیا)

محمد علی (ڈھلوں)

سرگودھا، پنجاب
شاعر، قانونی محقق و سرگودھا کے معاصر ادبی مکتبہ کے روشن نمائندہ قلم کار۔
CRITICAL APPRECIATION & METRICS

فکری تجزیہ اور بحر و اوزان کی لطافت

CATALOG REFCANON-NAZM-23
EDITION TYPEاشاعتِ عام
CURATED CONNECTIONS

ہم آہنگ کلام و منتخب اشعار

کتب خانہ دیکھیں
متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوں اس کی آنکھیں غضب اپنے حسن کے سبب

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

دسمبر آیا ہے پھر ستم ساتھ لایا ہے پھر،

متفرق اشعار
متفرق اشعار / ابیات

ہوا ہمیں چھوڑ کر تو کچھ تھوڑا سا بھی شرمندہ